ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / وزراء کو خشک سالی سے متاثرہ علاقوں میں کام کرنے سدرامیا کی سخت ہدایت

وزراء کو خشک سالی سے متاثرہ علاقوں میں کام کرنے سدرامیا کی سخت ہدایت

Thu, 24 Nov 2016 02:29:08    S.O. News Service

بنگلورو۔23/نومبر(ایس او نیوز) وزیر اعلیٰ سدرامیا نے ریاست کے تمام وزراء کو سخت ہدایت دی ہے کہ خشک سالی سے متاثرہ اضلاع میں راحت کاری کے کاموں کی  بذات خود نگرانی کیلئے وہ اپنے اپنے اضلاع میں موجود رہیں اور خاص طور پر ضلع انچارج وزراء اپنے اضلاع میں خشک سالی سے بری طرح متاثر تعلقہ جات اور دیہاتوں کا دورہ کریں، تاکہ یہاں پر پینے کے پانی کی سہولت، جانوروں کیلئے چارہ، کاشتکاروں کی امداد اور دیگر وسائل مہیا کرائے جاسکیں۔ آج بلگاوی کے سورنا سودھا میں منعقدہ کانگریس لیجسلیچر پارٹی میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ جب تک خشک سالی کی صورتحال سے مکمل طور پر نمٹا نہیں جاتا اس وقت تک اگر ترقیاتی کاموں کی رفتار سست ہوتی ہے تو بھی پرواہ نہ کی جائے، بلکہ خشک سالی سے متاثرہ عوام کی فوری امداد کیلئے پوری توجہ کے ساتھ کام کیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ ریاستی وزراء کو صرف ہیڈکوآرٹرس میں بیٹھ کر سرکاری افسران کی رپورٹوں پر انحصار کرنے کا سلسلہ ترک کردینا چاہئے، بلکہ انہیں ہر دیہات کا دورہ کرکے راحت کاری کا بذات خود معائنہ کرنا چاہئے، اور خشک سالی کے متاثرین سے خود بات چیت کریں، فی الوقت ریاست کے 139 تعلقہ جات خشک سالی کی لپیٹ میں آچکے ہیں، انہوں نے خود چھ اضلاع میں خشک سالی کی صورتحال کا جائزہ لیا ہے۔ بقیہ اضلاع کا بھی وہ رواں لیجسلیچر اجلاس کے بعد جائزہ لیں گے۔ سدرامیا نے کہاکہ حکومت کی طرف سے خشک سالی سے متاثرہ ہر اسمبلی حلقہ کو 60 لاکھ روپے اور خشک سالی سے غیر متاثرہ حلقہ کو 40لاکھ روپے راحت کاری کیلئے فوری طور پر جاری کئے جاچکے ہیں۔ تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں کے کھاتوں میں 384 کروڑ روپیوں کی رقم جمع کرائی جاچکی ہے۔ ہنگامی ضروریات کیلئے اس رقم کا استعمال کیا جائے۔بتایاجاتاہے کہ لیجسلیچر پارٹی میٹنگ میں بیشتر اراکین اسمبلی نے وزیر اعلیٰ سے مطالبہ کیا کہ حکومت کی طرف سے رائج ہاؤزنگ اسکیموں کو موثر طور پر نافذ کیا جائے۔وزیراعلیٰ سدرامیا نے اس سے اتفاق کرتے ہوئے مناسب قدم اٹھانے کا یقین دلایا۔ انہوں نے کہاکہ ریاست بھر میں تالابوں کو بحال کرنے اور ان کی صفائی کرنے کیلئے حکومت کی طرف سے شروع کی گئی کیرے سنجیونی اسکیم کو کافی سراہا جارہاہے، اس اسکیم کو موثر طور پر لاگو کرنے کیلئے قدم اٹھائے جائیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہاکہ خشک سالی کے سبب اناج کی پیداوار میں کافی کمی آئی ہے۔اس کے ساتھ مرکزی حکومت کی طرف سے اچانک نوٹوں پر پابندی نے تجارتی نظام کو درہم برہم کردیا ہے۔ رئیل ایسٹیٹ کاکاروبار مکمل طور پر ٹھپ ہوچکا ہے۔گاڑیوں کا اندراج نہ ہونے کے برابر ہے۔ ریاست بھر میں کاروباری لین دین میں گراوٹ صد فیصد کے قریب پہنچ چکی ہے۔جس کی وجہ سے رواں مالی سال ریاست کو ہونے والی آمدنی میں بھاری کمی کا اندیشہ ہے۔ ان حالات میں ریاستی حکومت کو مالیاتی نظم برقرار رکھنے میں کافی پریشانی ہوسکتی ہے۔ اس کے باوجود بھی ان کی کوشش یہی ہوگی کہ مالیاتی نظم کو برقرار رکھا جائے اور آمدنی کے موجودہ وسائل کا استعمال کرتے ہوئے سرکاری فلاحی اسکیموں پر خسارہ کا اثر پڑنے نہ دیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ ریاستی حکومت نے بیرونی اداروں سے جو قرضہ جات حاصل کئے ہیں وہ مالیاتی نظم کے مقرر کردہ دائرے کے اندر ہیں۔ کسی بھی حال میں بجٹ کے مرحلے میں مالی خسارہ کو بڑھنے نہیں دیا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ تمام ریاستی حکومتوں کی طرف سے مالیاتی منصوبوں کے متعلق انڈیا ٹوڈے کی طرف سے کروائے گئے سروے کے مطابق کرناٹک کو سر فہرست قرار دیتے ہوئے حال ہی میں اعزاز سے سرفراز کیا گیا ہے۔انہوں نے خود انڈیا ٹوڈے کا یہ اعزاز حاصل کیا ہے۔ کوآپریٹیو اداروں کے ذریعہ قرضہ جات حاصل کرنے والے کسانوں کے قرضہ جات کی معافی کی تجویز پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سدرامیا نے کہاکہ قومی اور علاقائی بینکوں کے ذریعہ کاشتکاروں نے 35ہزار کروڑ روپیوں کا قرضہ حاصل کیا ہے، مرکزی حکومت اگر اس میں سے 50 فیصد قرضہ بھی معاف کردے تو ریاستی حکومت بھی کوآپریٹیو اداروں سے لئے گئے قرضہ جات معاف کرنے پر غور کرسکتی ہے۔ کے پی سی سی صدر اور وزیر داخلہ ڈاکٹر جی پرمیشور نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ریاست کی معاشی حالت مستحکم ہے، انڈیا ٹوڈے جیسے قومی ادارہ نے ریاست کی مالی حالت کو ملک کی تمام ریاستوں کے مقابل اطمینان بخش قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ وزیر اعلیٰ نے خشک سالی سے نمٹنے کیلئے ہر اسمبلی حلقہ کیلئے فنڈز مہیا کرانے کا حکم جاری کردیا ہے، اراکین اسمبلی کی یہ ذمہ داری ہے کہ اس فنڈز کا زیادہ سے زیادہ فائدہ عوام تک پہنچائیں۔ میٹنگ کے بعد اخباری نمائندوں کے ایک سوال پر ڈاکٹر پرمیشور نے واضح کیا کہ میٹنگ کے دوران نائیس کمپنی کا معاملہ یا تنو یر سیٹھ سے جڑا تنازعہ زیر بحث نہیں آیا۔ 


Share: